بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران پر جنگ مسلط کرنے سے پہلے، نیٹو سے علیحدگی کے بارے میں ٹرمپ کی دھمکیاں رکن ممالک کو دفاعی بجٹ بڑھانے پر راغب کرنے کے لئے ہوتی تھیں۔
تاہم اس نے بدھ یکم اپریل 2026ع کو برطانوی اخبار ٹیلی گراف سے بات چیت ہوئے رکن ممالک کی عدم معیت پر تنقید کرتے ہوئے نیٹو سے علیحدگی کی دھمکی کو زیادہ سنجیدگی سے دہرایا۔
ٹرمپ نے اسی سلسلے میں ٹیلی گراف کے نامہ نگار کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: جی ہاں نیٹو سے علیحدگی کا مسئلہ مزید قابل غور نہیں ہے۔ میں کبھی نیٹو سے متاثر نہیں ہؤا، میں ابتدا سے جانتا تھا کہ وہ کاغذی شیر ہیں؛ صدر پوتن بھی جانتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا: میں نے نیٹو کے اتحادیوں کو مارچ کے وسط میں خبردار کیا تھا کہ اگر وہ آبنائے ہرمز کی سیکورٹی کے لئے نہ آئیں تو انتہائی برا مستقبل ان کا منتظر ہوگا۔ آبنائے ہرمز میں انہیں بلا کر آزمایا گیا اور وہ فیل ہوگئے۔
ٹرمپ نے کہا: ہم ہمیشہ خودکار طور پر ان کے ساتھ تھے، جیسے یوکرین کے مسئلے میں۔ یوکرین ہمارا مسئلہ نہیں تھا۔ یہ ایک امتحان تھا اور ہم نے ان کا ساتھ دیا لیکن وہ ہمارے ساتھ نہیں تھے۔
ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کو بھی فعال کردار ادا نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور طعنہ دیا کہ: تمہارے پس حتی کہ بحریہ بھی نہیں ہے، تم بہت بوڑھے ہو تمہارا ایئرکرافٹ کیریئر بھی ناکارہ ہے۔
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد، اس ملک نے آبنائے ہرمز سے دشمن جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی لگائی ہے اور کہا ہے کہ جو ممالک جنگ میں شریک نہیں ہے انہیں بھی مشروط طور پر جہازرانی کی اجازت دی جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ